جب جنرل ضیاء الحق نے سرکاری خرچ پر شاہانہ کھانے سے انکار کیا: سادگی کا روشن سبق

جنرل ضیاء الحق ایک سرکاری تقریب میں — سادگی اور ایمانداری کی علامت

 جنرل ضیاء الحق صاحب کی سادگی اور ایمانداری: ایک تاریخی واقعہ

جو آج بھی سبق دیتا ہے

پاکستان کی تاریخ میں کئی شخصیات ایسی گزر گئیں جنہوں نے اپنے کردار، سادگی اور 

ایمانداری سے عوام کے دل جیتے۔ ان میں ایک نمایاں نام جنرل محمد ضیاء الحق کا 

ہے۔ ان کی زندگی کے کئی واقعات ایسے ہیں جو آج بھی عوامی شعور کو جگانے اور 

حکومتی اخلاقیات پہ سوالات اٹھانے کا کام کرتے ہیں۔ 

1️⃣ واقعہ جو سادگی کی علامت بن گیا

ایک سرکاری تقریب کے اختتام پر کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں مہنگے اور 

شاہی کھانے پڑھے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے فوراً متعلقہ افسر سے پوچھا: 

"یہ کھانا کس کے خرچ سے تیار ہوا ہے" 

افسر نے جواب دیا: "جناب! یہ سب سرکاری خرچ پر ہے۔" 

یہ سن کر جنرل ضیاء الحق کے چہرے پر سختی آ گئی۔ انہوں نے کہا:

"جب ملک کے لوگ مہنگائی اور مشکلات میں ہیں، تو سرکاری پیسوں سے ایسے کھانے 

نہیں کھا سکتے۔ آئندہ ایسی فضول خرچی نہیں کی جائے گی" 

جس کے بعد انہوں نے خود صرف سادہ چائے پی کر واپس چلے گئے۔ 

2️⃣ عوامی درد کا احساس

یہ اپنے اصولی مؤقف تک محدود نہیں تھا بلکہ عوام کے درد کا عملی اظہار تھا۔ جب 

حاکم خود سادگی اختیار کریں تو عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ ضیاءالحق نے یہ ثابت 

کیا کہ قیادت صرف اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔

ایمانداری کا پیغام  

کچھ روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ جنرل ضیاءالحق اکثر اپنے عملے سے کہا کرتے تھے:  

‘اگر ہم خود ایماندار نہیں ہوں گے تو ملک کیسے درست ہوگا؟’ یہ جملہ آج بھی ہر سطح پر 

بہت درست ہے۔