جنگ ہوگی یا نہیں ۔۔۔۔۔ 

اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ وہ جنگ کیے بغیر نہیں بچ سکتے۔ اگر وہ روس، چین اور ایران سے گرم جنگ میں جیت گئے تو وہ دنیا کے سارے رول بدل دیں گے۔ تجارت کے رول، کرنسی کے رول، اقوام متحدہ کے قوانین، انٹرنیشنل لاء۔ پھر خود کو نیک اور باقی سب کو ولن بنا کر دوبارہ دنیا کے حکمران بن کر بیٹھ جائیں گے۔ یہی ان کا اصل مقصد ہے۔۔

ایران پر حملہ ہوگا۔ مذاکرات ہوں یا نا ہوں، یہ سب گیم ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جنگ کرنی ہے۔ 

پاکستان پہلے ہی حالت جنگ میں ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو برسوں سے فنڈ کیا جا رہا ہے۔ چھوڑا گیا اسلحہ انہی کے لیے تھا۔ اب شام سے نکلنے والے لوگ بھی اسی طرف بھیجے جا رہے ہیں۔ مقصد یہاں عدم استحکام پیدا کرنا اور ایران اور پاکستان کے گرد آگ لگانا ہے۔۔

یہ جنگ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ چاہیں یا نہ چاہیں، مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے ڈرنے کے بجائے تیار رہنا ہوگا۔۔

پاکستان کی فوج میں ہمارے اپنے بچے ہیں۔ وہ ہم ہی میں سے ہیں۔ ان کی حفاظت تب ہوگی جب ہم متحد رہیں۔ فرقہ بازی اور دہشت گردی کی مخالفت کریں۔ اندر سے کمزور ہوئے تو باہر والے آسانی سے توڑ دیں گے۔ تفرقہ بازی، احتجاج اور نفرت ایک ایسی لگژری ہے جس کی گنجائش آپ کے پاس اس وقت نہیں ہے۔

راجہ مبین اللہ خان