کیا ترقی صرف یورپ کا مقدر ہے یا ہمارا رویہ بھی ذمہ دار ہے؟"
یورپ میں قانون کی پاسداری اور ہمارا رویہ: ایک تلخ حقیقت تعارف ہم اکثر سنتے ہیں کہ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں نظام مضبوط ہے، عوام خوشحال ہیں، اور انصاف سب کے لیے برابر ہے۔ سوال یہ ہے: کیا وہاں کے لوگ کوئی اور مخلوق ہیں؟ نہیں۔ فرق صرف رویّوں اور قانون پسندی کا ہے۔ یورپ جا کر ہم وہ سب کچھ کرتے ہیں جو اپنے ملک میں کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہی رویہ ہمیں پسماندگی کی دلدل میں دھکیلتا ہے۔ یورپ میں قانون کی پابندی: ایک عملی مثال جب پاکستانی شہری یورپ پہنچتے ہیں، تو چند دنوں میں ہی ماحول کا اثر لینا شروع کر دیتے ہیں: زمین پر کچرا نہیں پھینکتے عوامی مقامات پر تمباکو نوشی سے گریز کرتے ہیں ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کرتے ہیں بچوں کو گاڑی میں سیٹ بیلٹ کے بغیر نہیں بٹھاتے قطار میں گھنٹوں کھڑے رہنا بھی برا نہیں لگتا یہ سب وہی لوگ ہیں جو پاکستان میں سگنل توڑنا، رشوت دینا، اور قطار کاٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اپنے ملک میں قانون شکنی کیوں؟ سوال یہ ہے کہ وہی انسان یورپ میں مہذب شہری کیوں بن جاتا ہے لیکن پاکستان میں نہیں؟ وجہ سادہ ہے: یقینی سزا و جزا : یورپ میں قانون توڑنے پر فوری اور...