روس کے افغان قبضے کے بارے میں آپ کو کیا جاننے کی ضرورت ہے۔

 روس، افغانستان اور پاکستان — ایک تاریخی جدوجہد کا پس منظر

جب رشین فیڈریشن نے افغانستان پر قبضہ کیا، تو صرف افغان سرزمین ہی نہیں، بلکہ پاکستان کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ گئی۔ اس وقت روس اپنی طاقت کے عروج پر تھا — ایک مکمل ایٹمی طاقت، جبکہ پاکستان کے پاس صرف جذبہ جہاد اور ایمانی قوت تھی۔ دوسری طرف بھارت بھی ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایسے نازک وقت میں پاکستان کو ایک طاقتور اتحادی کی ضرورت تھی، اور یہی وہ لمحہ تھا جب یورپ اور امریکہ نے روس کو دنیا کا چوہدری بننے سے روکنے کے لیے پاکستان کی پشت پناہی شروع کی۔

جہاد، اتحاد اور عالمی سیاست

دنیا بھر سے خصوصاً عرب ممالک کے مسلمان افغانستان پہنچنے لگے، اور روس کے خلاف جنگ کو عین جہاد سمجھا جانے لگا۔ اسی ماحول میں القاعدہ وجود میں آئی، جس کی قیادت اسامہ بن لادن نے کی — ایک ایسا شخص جو عرب کے امیر ترین خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔

افغانستان کے حکمران بیبرک کارمل روس کا آلہ کار بنے ہوئے تھے، اور بھارت بھی اس جنگی ماحول میں متحرک تھا۔ پاکستان کو اپنی بقاء کے لیے امریکہ، یورپ اور عرب دنیا کی حمایت لینا پڑی — اور یہ فیصلہ وقت کے تقاضے کے مطابق بالکل درست تھا۔

روس کا نظریہ — دنیا پر حکمرانی

جیسے بھارت کا اکھنڈ بھارت اور اسرائیل کا گریٹ اسرائیل کا نظریہ ہے، ویسے ہی روس بھی نظریاتی طور پر دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھتا رہا۔ ماسکو کے چوک میں رشین فیڈریشن کے بانی کی لاش آج بھی موجود ہے، اور روسی حکمران روزانہ اس کے سامنے دنیا پر حکمرانی کا عہد کرتے ہیں۔

دس سالہ جنگ اور روس کی شکست

یورپ اور امریکہ نے پاکستان کو جدید اسلحہ، مالی امداد اور جنگی ٹیکنالوجی فراہم کی۔ دس سال کی اعصاب شکن جنگ کے بعد رشین فیڈریشن 17 ریاستوں سے ہاتھ دھو کر صرف روس رہ گیا۔ پاکستان بھی ایٹمی طاقت بن چکا تھا، اور امریکہ کی مدد سے جدید اسلحہ بھی حاصل کر چکا تھا۔

1983 کا لمحہ — بھارت کو پیغام

جب بھارت نے 1983 میں ساڑھے چھ لاکھ فوج کے ساتھ پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنایا، تو جنرل ضیاء الحق نہرو کپ کا فائنل دیکھنے کے بہانے بھارت گئے اور راجیو گاندھی کو واضح پیغام دیا:

"ہمارے پاس پانچ ایٹم بم تیار ہیں۔ یاد رکھنا، رام رام کرنے والا صرف ایک ملک ہے، اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے 53 ملک ہیں۔"

یہ پیغام بھارت کے لیے کافی تھا کہ وہ اپنی جارحیت سے باز رہے۔

روس کی شکست اور افغان مہاجرین کا سیلاب

روس نہ صرف جنگ ہارا بلکہ 17 ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ مگر وہاں کسی نے اپنے جرنیلوں کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ ملک ٹکڑوں میں بٹ گیا — کیونکہ وہاں شخصیت پرستی نہیں بلکہ قومی شعور ہے۔

افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کے وقت ایک جرنیل نے دریائے آمو کے پل پر کھڑے ہو کر کہا:

"اگر واقعی کوئی خدا ہے، تو وہ مجھے دوبارہ اس جہنم میں نہ لے آئے۔"

اس جنگ کے بعد افغان مہاجرین کا سیلاب آیا، اور ساتھ ہی ہیروئن، چرس، مارفیا اور کلاشنکوف بھی۔ مگر کیا ان سب کا ذمہ دار صرف جنرل ضیاء الحق ہے؟ یا یہ وقت اور حالات کے مطابق کڑوے فیصلے تھے؟

نتیجہ: تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت

روس کی جارحیت کے خلاف امریکہ اور یورپ کا اتحادی بننا پاکستان کی سلامتی کے لیے ناگزیر تھا۔ مگر آج کے نوجوانوں کو یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں — کیونکہ ان کا تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں۔

"وما علینا الا البلاغ المبین"

اس طرح کے مزید مواد چاہتے ہیں تو لائک, فالو, اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شیئر کریں
آئیں مل کر لوگوں کو معلومات  فرام کر یں

  مزید  اچھے آرٹیکل