بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ظلم و جبر: ایک بڑھتا ہوا انسانی بحران
مذہبی آزادی پر حملہ: "I Love Muhammad" مہم کی سرکوبی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و ستم نے ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حالیہ مہینوں میں مذہبی آزادی، شہری حقوق اور سماجی تحفظ کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا گیا ہے۔ اکتوبر 2025 کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی ریاستوں میں مسلمانوں کو صرف مذہبی اظہار کی بنیاد پر گرفتار، ہراساں اور بے دخل کیا جا رہا ہے۔ 🔥 "I Love Muhammad" مہم پر ریاستی ردعمل ستمبر 2025 میں اتر پردیش کے شہر کانپور میں مسلمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی ولادت کے موقع پر "I Love Muhammad" کے پوسٹرز اور سائن بورڈز آویزاں کیے۔ یہ ایک پرامن مذہبی اظہار تھا، لیکن بھارتی حکومت نے اسے "امن عامہ کے لیے خطرہ" قرار دے کر 4,500 سے زائد مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج کیے۔ Bareilly میں 89 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ پورے ملک میں 265 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ یہ کارروائیاں نہ صرف مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقلیتوں کو خاموش کرنے کی ایک منظم کوشش بھی ہیں۔ 🧨 نفرت انگیز جرائم اور حملے پاہلگام حملے کے بعد بھارت میں مسلمانو...